ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں تین نائب وزیراعلی‘ یڈیورپا کیمپ میں برہمی؛ کیا بی جے پی کی مرکزی قیادت نے یڈی یورپا کے ساتھ سنئیر لیڈران کو بھی دی مات ؟

کرناٹک میں تین نائب وزیراعلی‘ یڈیورپا کیمپ میں برہمی؛ کیا بی جے پی کی مرکزی قیادت نے یڈی یورپا کے ساتھ سنئیر لیڈران کو بھی دی مات ؟

Tue, 27 Aug 2019 11:18:24    S.O. News Service

بنگلورو،27؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک میں وزیراعلیٰ کے عہدہ پر فائز ہوکر پورے ایک ماہ بعد اب یڈی یورپا کو ایک ساتھ تین نائب وزراء مل گئے ہیں اور ان  وزراء   کی منظوری مرکزی بی جے پی لیڈرشپ   کی طرف سے  کی گئی ہے۔ جس کے ساتھ ہی بی جے پی کی مرکزی قیادت  نے  ایک طرف یڈی یورپا  کو تو  دوسری طرف  بی جے پی کے سنئیر لیڈران کو  بھی مات دیدی ہے۔

مرکزی  بھارتیہ جنتا پارٹی نے پیر کے روز جن تین کو نائب وزیراعلیٰ کے لئے منتخب کیا ہے، ان کے نام  گوئند کاروجول‘ سی این اشوتھ نارائن اور لکشمن ساوادی ہیں‘ یہ وہ اقدام ہے جس کی وجہ  سے کابینہ کے سینئر رفقاء میں برہمی پیدا ہوگئی ہے۔  چیف منسٹر یڈیورپا کو 17وزراء کے محکموں کو قطعیت دینے کے لئے ایک ہفتہ کا وقت اور دو مرتبہ نئی دہلی کا دورہ کرنا پڑا۔ جس کے بعدگوند کارجول کو نائب وزیراعلیٰ کے ساتھ تعمیرت عامہ اور سماجی بہبود کا قلمدان دیا گیا  جبکہ ڈاکٹر اشوتھ نارائن کو نائب وزیراعلیٰ کے ساتھ اعلی تعلیم اور آئی ٹی بی ٹی، سائنس ٹیکنالوجی کا بھی قلمدان دیا گیا اسی طرح لکشمن سوادی کو نائب وزیراعلیٰ کے ساتھ محکمہ ٹرانسپورٹ دیاگیاہے۔

ان تینوں کا  انتخاب اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ طبقہ کی تال میل کو بی جے پی پراجکٹ کررہی ہے۔ کارجول ایس سی کمیونٹی سے ہے جبکہ اشوتھ نارائن وکالیگا اور سوادی لنگایت ہیں۔سینئر وزرا ء میں سابق چیف منسٹر جگدیش شیٹر کے حوالے چھوٹی او ردرمیانی صنعت‘ سابق نائب وزیراعلی کے ایس ایشوراپا کو دیہی ترقی اور ایک سابق نائب وزیراعلی آر اشوک کو ریونیو کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔

بسوراج بومائی کو وزیرداخلہ ‘ بی  شری راملو   کو  صحت و خاندانی بہبود‘ ایس سریش کمار کو پرائمری او رسکنڈری تعلیم کا وزیر‘ جے سی مدھو سوامی کو قانون اور پارلیمانی امور کا منسٹر جبکہ سی ٹی روی کو وزیرسیاحت مقرر کیاگیاہے۔ کابینہ میں واحد خاتون منسٹر ششی کلا جولے  ہیں جنھیں خواتین او رترقی اطفال کی ذمہ داری دی گئی ہے وہیں آزاد رکن اسمبلی ایچ ناگیشن کو آبکاری کا محکمہ حوالے کیاگیاہے۔

فہرست کافی تاخیر سے اور وزراء کے لئے مایوسی کے لمحے کے ساتھ آئی‘ یہاں تک کہ چیف منسٹر بی ایس یڈی یورپا نے صبح  کہاتھا کہ ”محکموں کے تعین کے ساتھ فہرست گورنر کے پاس بھیجی جائے گی اور پھر شام تک اس کی اجرائی عمل میں آئے گی“۔  تاہم شام چار بجے تک کابینہ اجلاس چلا مگر اس میں قلمدانوں  کا  کوئی سائن نہیں تھا۔ ابتداء میں ہفتہ کے روز پورٹ فولیو کااعلان کیاگیاتھا،  مگرسابق مرکزی وزیرارون جٹیلی کی موت کے بعد اس کو روک دیاگیاتھا۔

حالیہ قلمدانوں کی تقسم پر پارٹی کے سینئر وزرا ء میں ناراضگی پائی جارہی  ہے ، اس تعلق سے پتہ چلا ہے کہ  جب انہوں نے  وزیراعلیٰ یڈی یورپا  سے اس  کی شکایت کی توانہیں سیدھا جواب دیا گیا کہ فیصلہ نئی دہلی سے کیاگیاہے۔


Share: